ملک کے اعلیٰ حکام اور عہدے داروں سے رہبرِ معظم کا خطاب
ملک کے اعلیٰ حکام اور عہدے داروں سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب
آپ نے عنقریب ہی اس حکومت کا شیرازہ بکھرنے کے سلسلے میں صیہونی حکام کے مسلسل انتباہات کو صیہونیوں کی کمزوری کی ایک اور نشانی بتایا۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مغربی ملکوں میں خواتین کی افسوسناک اور غیر محفوظ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ممالک جو اس بات کے معترف ہیں کہ ان کے یہاں خواتین سڑکوں پر یا فوجی کیمپوں اور چھاؤنیوں تک میں محفوظ نہیں ہیں اور جہاں ایک پردہ دار مسلمان خاتون، جو شکایت لے کر عدالت میں گئی ہے، مجرم کے وار سے قتل اور شہید ہو جاتی ہے، ایسے ممالک اسلامی جمہوریہ پر، جو خاتون کو برترین درجہ دیتی ہے، سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
ملک کے اعلیٰ حکام اور عہدے داروں سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب
آپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ (ملک میں) خاتون کا مسئلہ صرف پہناوا نہیں ہے، تعلیم، روزگار، سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے میدانوں اور اہم عہدوں پر ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی بھرپور موجودگی، انقلاب سے پہلے کی جدوجہد، مقدس دفاع اور اس کے بعد کے دور میں ملکی خواتین کی سرگرم موجودگی کو بھی ایرانی خواتین کے مسائل اور کارناموں میں شمار کیا۔
رہبر انقلاب نے یہ بات پر زور دے کر کہی کہ ایسی بہت سی خواتین جو پردہ نہیں کرتیں، وہ اس کام کے پس پردہ ہاتھوں یعنی دشمن کی خفیہ ایجنسیوں سے باخبر نہیں ہیں اور اگر وہ جان لیں کہ حجاب نہ کرنے اور پردے کی مخالفت کی ترغیب دلانے کے پیچھے کون لوگ اور کون سی ایجنسیاں ہیں تو وہ یہ کام نہیں کریں گی۔
اعلیٰ حکام کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کے دوران حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے صدرِ ایران
اس ملاقات کے آغاز میں صدر مملکت حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے حکومت کے کاموں اور پروگراموں کی ایک رپورٹ پیش کی اور کہا کہ سنہ 1401 ہجری شمسی کی ہیرو، عظیم ایرانی قوم تھی جس نے اپنی استقامت اور ہائبرڈ جنگ میں دشمنوں کو ناکام بنا کر عظیم کارنامہ انجام دیا۔